20 اکتوبر 2026 - 09:34
اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ امریکا اور اسرائیل کے مفاد میں ہے

جموں و کشمیر کی انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن موسوی نے اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی اور باہمی محاذ آرائی کے نتائج پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم دنیا کا اتحاد و یکجہتی اور اختلافات کا مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے حل، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، سید حسن موسوی نے ایک بیان میں اسلامی ممالک کے درمیان تناؤ اور باہمی اختلافات کے ممکنہ نتائج کی جانب توجہ دلاتے ہوئے مسلم دنیا کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مسلم دنیا سے اپیل کی کہ وہ اختلافات اور باہمی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے اپنے اتحاد کو مضبوط بنائے اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرے۔

کشمیری عالم دین نے خبردار کیا کہ اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ان طاقتوں کے مفاد میں ہے جو خطے میں اپنے مفادات آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

سید حسن موسوی نے کہا کہ اسلامی ممالک اور مختلف گروہوں کے درمیان جاری تناؤ اور محاذ آرائی امت مسلمہ کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتی ہے۔ ان کے بقول، اس صورت حال سے امریکا اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو موجودہ اختلافات سے فائدہ اٹھانے اور خطے میں اپنے تزویراتی مفادات آگے بڑھانے کے مواقع ملتے ہیں۔

جموں و کشمیر کی انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے نزدیک بلند مقام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدس اسلامی مقامات ہمیشہ پوری امت مسلمہ کے احترام کا مرکز رہے ہیں، اس لیے ان سے متعلق حساس معاملات کو احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے اور ان کے درمیان اختلافات بڑھنے سے روکنے کے لیے حساس دینی معاملات پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنا ضروری ہے۔

سید حسن موسوی نے اسلامی ممالک کے رہنماؤں، علمائے دین اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا مقابلہ کریں اور اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ اور محاذ آرائی مسائل کا حل نہیں ہیں، بلکہ مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کے حصول کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

بیان کے اختتام پر جموں و کشمیر کی انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ نے تمام اسلامی ممالک اور مسلم عوام سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنائیں اور امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مربوط کوششیں کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha